مسند امام احمد - حضرت ابوسعید بن معلی کی حدیث۔ - 15173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمْ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ
حضرت ابوسعید معلی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا اتفاقا وہاں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہوا آپ نے مجھے آواز دی لیکن میں نماز پوری کرنے تک حاضر نہ ہوا اس کے بعد حاضر ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکا عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے اہل ایمان والو اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہو تو تم ان کی پکار پر لبیک کہو پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے قبل قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھا دوں پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دہانی کروائی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ سورت فاتحہ ہے وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
Top