مسند امام احمد - حضرت ابولہ کی حدیثیں۔ - 15190
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَطْمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَهِيَ الْعَوَامِرُ
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر سانپ کو خصوصا دھاری دار سانپ کو اور دم بریدہ سانپ کو ماردیا کرو کیونکہ یہ دونوں اسقاط حمل اور سلب بصارت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے میں جو بھی سانپ دیکھتا تھا اسے قتل کردیتا تھا ایک دن حضرت ابولبابہ یازید بن خطاب نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کو قتل کرنے کے لئے اسے دھتکار رہا ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ بعد ازاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
Top