مسند امام احمد - جد خبیب کی حدیث۔ - 15205
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلَمْ نُسْلِمْ فَقُلْنَا إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ قَالَ أَوَ أَسْلَمْتُمَا قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَهُ فَقَتَلْتُ رَجُلًا وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً وَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَكَانَتْ تَقُولُ لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَأَقُولُ لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ النَّارَ
خبیب بن عبدالرحمن کے داد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میری قوم کا ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوے کی تیاری فرما رہے تھے ہم نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یہ بات ہمارے لئے باعث شرم ہے کہ ہماری قوم کسی جنگ کے لئے جا رہی ہو اور ہم ان کے ساتھ شریک نہ ہوں اس لئے ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم دونوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ہم نے کہا نہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لینا چاہتے اس پر ہم نے اسلام قبول کرلیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک ہوگئے اس جنگ میں میں نے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس نے مجھے ایک ضرب لگائی بعد میں اسی مقتول کی بیٹی سے میں نے نکاح کرلیا تو وہ کہا کرتی تھی کہ تم اس آدمی کو بھلا نہیں سکو گے جس نے تمہیں یہ زخم لگایا اور میں اس سے کہتا تھا کہ تم بھی اس آدمی کو بھلا نہیں پاؤ گی جس نے تمہارے باپ کو جلدی سے جہنم کا راستہ دکھا دیا۔
Top