مسند امام احمد - حضرت جندب بن مکیث کی حدیث۔ - 15285
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ قَالَ أَبِي كَمَا حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنْدُبٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَالِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي مُلَوَّحٍ بِالْكَدِيدِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ فَخَرَجَ فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا بِهِ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيُّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ مُسْلِمًا فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ قَالَ فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا فَقَالَ امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ فَإِنْ نَازَعَكَ فَاجْتَزَّ رَأْسَهُ قَالَ ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ فَنَزَلْنَا عُشَيْشِيَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي فِي رَبِيئَةٍ فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ الْمَغْرِبَ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ قَالَ فَنَظَرَتْ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَفْقِدُ شَيْئًا قَالَ فَنَاوِلِينِي قَوْسِي وَسَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِي قَالَ فَنَاوَلَتْهُ فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي قَالَ فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ وَلَوْ كَانَ دَابَّةً لَتَحَرَّكَ فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ فَخُذِيهِمَا لَا تَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ قَالَ وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَعَطَنُوا أَوْ سَكَنُوا وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنْ اللَّيْلِ شَنَنَّا عَلَيْهِمْ الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ فَتَوَجَّهْنَا قَافِلِينَ وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُغَوِّثًا وَخَرَجْنَا سِرَاعًا حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ فَجَاءَنَا مَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ حَيْثُ شَاءَ مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهِ فَلَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَنَحْنُ نُحَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمَشْلَلِ ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا
حضرت جندب بن مکیث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غالب بن عبداللہ کلبی کو بنو ملوح کے پاس جو مقام قدید میں رہتے تھے بھیجا اور ان پر شب خون مارنے کا حکم دیا وہ روانہ ہوئے اس دستے میں میں بھی شریک تھا ہم چلتے رہے جب مقام قدید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن مالک مل گئے ہم نے انہیں پکڑ لیا وہ کہنے لگا کہ میں تو اسلام قبول کرنے کے لئے آرہا تھا حضرت غالب نے فرمایا اگر تم واقعی مسلمان ہونے کے لئے آرہے تھے تو یہ ایک دن کی قید تمہارے لئے کسی طرح نقصان دہ نہیں ہوگی اور اگر کسی دوسرے ارادے سے آرہے تھے تو ہم نے تمہیں باندھ لیا ہے یہ کہہ کر انہوں نے حارث کی مشکیں کس دیں اور ایک حبشی کو جو ہمارے ساتھ تھا ان پر نگران مقرر کرکے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور اس سے یہ کہہ دیا کہ تم یہیں رکو تاآنکہ ہم واپس آجائیں اس دوران اگر یہ تم سے مزاحمت کرنے کی کوشش کرے تو اس کا سر قلم کردینا۔ اس کے بعد ہم لوگ روانہ ہوئے اور بطن قدیدہ میں پہنچ کر نماز عصر کے بعد مقام عشیشہ میں پڑاؤ کیا مجھے میرے ساتھیوں نے ایک اونچی جگہ پر بھیج دیا میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا تاکہ میں ہر آنے جانے والے پر نظر رکھ سکوں میں مغرب کے وقت اس پر چڑھا تھا دشمن کا ایک آدمی باہر نکلا اور اس نے مجھے ٹیلے پر چڑھے ہوئے دیکھ لیا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے اس ٹیلے پر انسانی سایہ دکھائی دے رہا ہے جو میں نے دن کے پہلے حصے میں نہیں دیکھا تھا دیکھو کہیں کتوں نے تمہارے برتن گھسیٹ کر باہر تو نہیں پھینک دیئے اس نے دیکھ کر کہا کہ واللہ مجھے تو کوئی چیز کم محسوس نہیں ہو رہی اس نے کہا کہ پھر مجھے کمان اور میرے ترکش میں دو تیر لا کردو اس نے اسے یہ چیزیں لا کردے دیں اور اس نے تاک کر مجھے ایک تیر دے مارا جو میرے پہلو پر آکر لگا میں نے اسے کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی اس نے دوسرا تیر بھی مجھے مارا جو میرے کندھے کی جڑ میں آ کر لگا میں نے اسے بھی کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی یہ دیکھ کر وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ اسے میرے دونوں تیر لگے ہیں اگر یہ کوئی جاندار چیز ہوتی تو حرکت ضرور کرتی اس لئے صبح ہونے کے بعد تم میرے تیر تلاش کرکے لے آنا تاکہ کتے اسے میرے ہی خلاف استعمال نہ کریں ہم نے ان لوگوں کو اسی طرح مہلت دی یہاں تک کہ رات نے اپنے ڈیرے ڈالنے شروع کردیئے جب ان لوگوں نے جانوروں کا دودھ دوہ لیا اونٹوں کو باند ھ دیا اور خود آرام کرنے لگے اور رات کا کچھ حصہ گذر گیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا کچھ لوگ ہمارے ہاتھوں مارے گئے اور اس کے بعد ہم نے جانوروں کو ہانکا اور واپس روانہ ہوگئے۔
ادھر ان لوگوں کا منادی چیخ چیخ کر لوگوں کو مدد کے لئے پکارنے لگا ہم لوگ تیزی سے چلے جارہے تھے یہاں تک کہ ہم حارث بن مالک اور اس کے ساتھی کے پاس پہنچ گئے اور انہیں بھی ساتھ لے کر روانہ ہوئے اسی اثناء میں لوگوں کے جوش و خروش سے بھرپور نعروں کی آواز سنائی دینے لگی جب ہمارے اور ان کے درمیان صرف بطحن وادی کی آڑ رہ گئی تو اچانک بارش شروع ہوگئی جو ہمارے اور ان کے درمیان حائل تھی اور جسے اللہ نے ہمارے لئے بھیج دیا ہم نے اس سے پہلے ایسی بارش دیکھی اور نہ اب تک اتنی بارش ہوئی ہے کوئی بھی اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ہم نے انہیں دیکھا کہ وہ کھڑے ہوئے اور ہمیں دیکھ رہے ہیں لیکن کسی کی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ سکے جبکہ ہم تیزی سے اپنی چیزوں کو سمیٹتے ہوئے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم لوگ مشلل نامی جگہ پر پہنچے اور وہاں سے نیچے اتر آئے اور دشمن کو اپنے قبضے میں موجود جانوروں کو حاصل کرنے سے عاجز کردیا۔
Top