مسند امام احمد - حضرت عبداللہ بن ابی جدعا کی حدیث۔ - 15298
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى رَهْطٍ أَنَا رَابِعُهُمْ بِإِيلِيَاءَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قُلْنَا سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سِوَايَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا قَامَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایلیاء میں ایک جماعت کے ساتھ میں بھی بیٹھا ہوا تھا جن میں سے چوتھا فرد میں تھا اس دوران ان میں سے ایک نے کہنا شروع کردیا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی سفارش کی وجہ سے بنوتمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ یہ شفاعت آپ کی شفاعت کے علاوہ ہوگی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں میرے علاوہ ہوگی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی ہے انہوں نے کہا جی ہاں جب وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں انہوں نے بتایا یہ حضرت عبداللہ بن ابی جدعاء ہیں۔
Top