مسند امام احمد - حضرت معن بن یزید سلمی کی حدیثیں۔ - 15301
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
حضرت معن بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے میرے والد اور دادا نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پیغام نکاح پر خطبہ پڑھ کر میرا نکاح کردیا میرے والد یزید نے کچھ دینار صدقہ کی نیت سے نکالے اور مسجد میں ایک آدمی کے ہاتھ پر رکھ دیئے وہ آدمی میں ہی تھا میں نے وہ دینار لئے اور ان کے پاس آیا تو وہ کہنے لگا کہ کہ میں نے تمہیں یہ دینار نہیں دینا چاہے تھے میں یہ مقدمہ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یزید تمہیں اپنی نیت کا ثواب مل گیا اور معن جو تمہارے ہاتھ لگ گیا وہ تمہارا ہوگیا۔
Top