مسند امام احمد - نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکرم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والے صحابی کی روایت۔ - حدیث نمبر 9328
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يُسَبِّحَ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَخْبَرَنِي عَوْفٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرویات
یزید بن کیسان (رح) ایک مرتبہ نماز پڑہ رہے تھے کہ سالم بن ابی الجعد (رح) نے اندر آنے کی اجازت چاہی انہوں نے سبحان اللہ کہہ دیا سلام پھیرنے کے بعد وہ کہنے لگے اگر مرد نماز پڑھ رہاہو تو اس کی طرف سے سبحان اللہ کہنے کو اجازت سمجھنا چاہئے اور عورت کا تالی بجانا اس کی طرف سے اجازت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے۔
Top