مسند امام احمد - حضرت سلمہ بن یزید جعفی کی حدیث۔ - 15360
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا قَالَ لَا قَالَ قُلْنَا فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا قَالَ الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا
حضرت سلمہ بن یزید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بھائی کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہماری والدہ ملیکہ صلہ رحمی کرتی تھیں مہمان نوازی کرتی تھیں اور فلاں فلاں نیکی کے کام کرتی تھیں ان کا انتقال ہوگیا ہے زمانہ جاہلیت میں کیا یہ سب کام ان کے لئے نفع بخش ہوں گے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں ہم نے پوچھا کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کیا تھا اس کا بھی ان کے ساتھ تعلق ہوگا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زندہ درگور کرنے والی اور ہونے والی دونوں جہنم میں ہوں گی الاّ یہ کہ زندہ درگور ہونے والی اسلام کو پالے اور اللہ اس سے درگذر فرمائے۔
Top