مسند امام احمد - حضرت ابوتمیمہ ہجیمی کی حدیث۔ - 15391
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مِنْ قُطْنٍ مُنْتَثِرُ الْحَاشِيَةِ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى سَلَامٌ عَلَيْكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا هَكَذَا قَالَ سَأَلْتُ عَنْ الْإِزَارِ فَقُلْتُ أَيْنَ أَتَّزِرُ فَأَقْنَعَ ظَهْرَهُ بِعَظْمِ سَاقِهِ وَقَالَ هَاهُنَا اتَّزِرْ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَعْرُوفِ فَقَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ صِلَةَ الْحَبْلِ وَلَوْ أَنْ تُعْطِيَ شِسْعَ النَّعْلِ وَلَوْ أَنْ تَنْزِعَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَلَوْ أَنْ تُنَحِّيَ الشَّيْءَ مِنْ طَرِيقِ النَّاسِ يُؤْذِيهِمْ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْطَلِقٌ وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَلَوْ أَنْ تُؤْنِسَ الْوُحْشَانَ فِي الْأَرْضِ وَإِنْ سَبَّكَ رَجُلٌ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ فِيهِ نَحْوَهُ فَلَا تَسُبَّهُ فَيَكُونَ أَجْرُهُ لَكَ وَوِزْرُهُ عَلَيْهِ وَمَا سَرَّ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاعْمَلْ بِهِ وَمَا سَاءَ أُذُنَكَ أَنْ تَسْمَعَهُ فَاجْتَنِبْهُ
حضرت ابوتمیمہ ہجیمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میری ملاقات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوگئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت اون کا بنا ہوا تہبند جس کے کنارے پھولے ہوئے تھے باندھ رکھا تھا میں نے سلام کرتے ہوئے کہا علیک السلام یا رسول اللہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علیک السلام تو مردوں کو سلام ہے پھر میں نے تہبند کے حوالے سے پوچھا کہ میں تہبند کہاں تک باندھا کروں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پنڈلی کی ہڈی سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا کہ یہاں تک باندھا کرو اگر ایسا نہیں کرسکتے تو پھر اس سے ذرا نیچے باندھ لیا کرو اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو یہاں ٹخنوں تک باندھ لیا کرو اگر ایسا بھی نہیں کرسکتے تو پھر اللہ کسی شیخی خورے متکبر کو پسند نہیں کرتا۔ پھر میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیکی کے متعلق پوچھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھا کرو اگرچہ کسی کو ایک رسی ہی دو یا کسی کو جوتی کا تسمہ ہی دو یا اپنے ڈول میں سے کسی کو پانی مانگنے والے برتن میں پانی کھینچ کر ڈال دیا کرو یا راستے میں سے کوئی ایسی چیز دور کردو جس سے انہیں تکلیف ہو رہی ہو یا اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو یا اپنے بھائی سے ملاقات کرکے اسے سلام کرو یا زمین میں اجنبی سمجھ جانے والوں سے انس و محبت ظاہر کرو اور گر کوئی آدمی تمہیں گالی دے اور ایسی چیز کا طعنہ دے جس کا تمہاری ذات کے حوالے سے علم ہو اسے تو بھی اسی قسم کے کسی عیب کے بارے میں جانتے ہو تو تم اسے اس عیب کا طعنہ نہ دو یہ تمہارے لے باعث اجر اور اس کے لئے باعث وبال ہوگا اور جس چیز کو تمہارے کان سننا پسند کریں اس پر عمل کرلو اور جس چیز کو سننا تمہارے کانوں کو پسند نہ ہو اس سے اجتناب کرو۔
Top