مسند امام احمد - حضرت سبرہ بن ابی افاکہ کی حدیث۔ - 15394
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ لَهُ أَتُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ قَالَ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ أَتُهَاجِرُ وَتَذَرُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ قَالَ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ لَهُ هُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقَسَّمُ الْمَالُ قَالَ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَمَاتَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
حضرت سبرہ بن ابی فاکہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف راستوں میں بیٹھا ہوتا ہے پہلے اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تو اسلام قبول کرکے اپنا اور اپنے اباؤ اجداد کا دین ترک کردے گا وہ اس کی نافرمانی کر کے اسلام قبول کرلیتا ہے تو شیطان ہجرت کے راستے میں آکر بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تو ہجرت کرکے اپنے زمین اور آسمان کو چھوڑ کر چلاجائے گا مہاجر کی مثال تو لمبائی میں گھوڑے جیسی ہے وہ پھر اس کی نافرمانی کر کے ہجرت کرجاتا ہے پھر شیطان جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے جان مال دونوں کو خطرہ ہے تو لڑائی میں شرکت کرتا ہے اور ماراجائے گا تیری بیوی سے کوئی اور نکاح کرلے گا اور تیرے مال کا بٹوارہ ہوجائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کرکے اور جہاد کے لئے چلا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ کام کر کے فوت ہوجائے تو اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے اگر وہ شہید ہوجائے یا سمندر میں ڈوب جائے یا جانور سے گر کر فوت ہوجائے تب بھی اللہ کے ذمے حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے۔
Top