مسند امام احمد - حضرت عمر بن شاس اسلمی کی حدیث۔ - 15396
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شَكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي
حضرت عمر بن شاس جو اصحاب حدیبیہ میں سے ہیں کہتے ہیں کہ میں حضرت علی کے ساتھ یمن سے روانہ ہوا دوران سفر سے ان سے میری کچھ حق تلفی ہوگئی جس کی بناء پر میرے دل میں ان کے معلق بوجھ پیدا ہوگیا یہی وجہ ہے کہ مدینہ پہنچ کر میں نے مسجد میں یہ شکایت لوگوں کے سامنے ظاہر کی ہوتے ہوتے یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک بھی جاپہنچی اگلے دن جب میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند صحابہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے ہیں مجھے دیکھ کر آپ نے تیز نظروں سے گھورا اور جب میں بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا عمرو واللہ تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں کہ آپ کو اذیت پہنچاؤں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیوں نہیں جس نے علی کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔
Top