مسند امام احمد - حضرت طلحہ کی حدیث۔ - 15421
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبٍ أَنَّ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لِي بِهَا مَعْرِفَةٌ فَنَزَلْتُ فِي الصُّفَّةِ مَعَ رَجُلٍ فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ خُبْزًا أَوْ لَحْمًا لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ أَمَا إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تُدْرِكُوا وَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ أَنْ يُرَاحَ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ وَتَلْبَسُونَ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى جِئْنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَاسَوْنَا وَكَانَ خَيْرَ مَا أَصَبْنَا هَذَا التَّمْرُ
حضرت طلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میری وہاں کوئی جان پہچان نہ تھی چناچہ میں ایک آدمی کے ساتھ صفہ نامی چبوترے پر آکر پڑگیا میں اور وہ روزانہ صرف ایک مد کھجور اپنے درمیان تقسیم کرلیتے تھے ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہو کر اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ کھجوروں نے ہمارے پیٹ میں آگ لگا دی ہے اور ہمارے جسم پر دانے نکل آئے ہیں اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا واللہ اگر میرے اپنے پاس روٹی گوشت ہوتا تو وہ بھی تمہیں کھلا دیتا عنقریب تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گے کہ تمہارے پاس بڑے بڑے پیالے ہوں گے اور غلام کعبہ جیسے کپڑے پہننے کے لئے تمہارے پاس ہوں گے اس کے بعد صرف اٹھارہ دن ہمارے ساتھ غم خواری کی اس وقت تک ہمیں جو سب سے بہترین چیز ملی تھی وہ یہی کھجور تھی۔
Top