مسند امام احمد - حضرت رباح بن ربیع کی حدیث - 15425
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَعَلَى مُقَدِّمَتِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتْ الْمُقَدِّمَةُ فَوَقَفُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَانْفَرَجُوا عَنْهَا فَوَقَفَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ الْحَقْ خَالِدًا فَقُلْ لَهُ لَا تَقْتُلُونَ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ رَبَاحًا جَدَّهُ ابْنَ الرَّبِيعِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُرَقِّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي مُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ التَّمِيمِيُّ شَهِدَ عَلَى جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ الْحَنْظَلِيِّ الْكَاتِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ
حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید مامور تھے اسی دوران مقدمہ الجیش کے ہاتھوں مرنے والی ایک عورت پر صحابہ کرام کا گذرا ہو تو وہ رک گئے اور اسے دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے اتنے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی سواری پر سوار وہاں پہنچ گئے لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے راستہ چھوڑ دیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی لاش کے پاس پہنچ کر رک گئے اور فرمایا یہ تو لڑائی میں شریک نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ خالد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ بچوں اور مزدوروں کو قتل نہ کریں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top