مسند امام احمد - حضرت ابومویھبہ کی حدیث۔ - 15426
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الثَّانِيَةِ قَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكَتْ الدَّابَّةُ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى فَلْيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي أُعْطِيتُ أَوْ قَالَ خُيِّرْتُ مَفَاتِيحَ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي وَالْجَنَّةَ أَوْ لِقَاءَ رَبِّي فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي قَالَ لَأَنْ تُرَدَّ عَلَى عَقِبِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَاخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَبِثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً تُرَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا
حضرت ابومویھبہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لئے دعا کریں چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات میں ان کے لئے تین مرتبہ دعا کی دوسری رات ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا ابومویھبہ میرے لئے سواری پر زین کس دو پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کر تم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لئے تم جن نعمتوں میں ہو اس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے اور فرمایا مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جو فتوحات حاصل کرے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے بعد امت وہی کرے گی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لئے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چناچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔
Top