مسند امام احمد - حضرت ابوعمیر کی حدیث۔ - 15431
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ يَعْنِي ابْنَ وَاصِلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ طَلْقٍ امْرَأَةٌ مِنْ الْحَيِّ سَنَةَ تِسْعِينَ عَنْ أَبِي عُمَيْرَةَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ قَالَ صَدَقَةٌ قَالَ فَقَدِّمْهُ إِلَى الْقَوْمِ وَحَسَنٌ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ فَنَزَعَ التَّمْرَةَ فَقَذَفَ بِهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ فَقُلْتُ لِمَعْرُوفٍ أَبُو عُمَيْرٍ جَدُّكَ قَالَ جَدُّ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ طَلْقٍ عَنْ أَبِي عَمِيرَةَ أُسَيْدِ بْنِ مَالِكٍ جَدِّ مَعْرُوفٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت ابوعمیر سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کھجوروں کا ایک تھال لے کر آیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کہ یہ صدقہ ہے اس نے کہا صدقہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے لوگوں کے آگے کردیا اس وقت حضرت امام حسن بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے وہ بچے تھے انہوں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکالی اور ایک طرف رکھ دی اور فرمایا ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top