مسند امام احمد - حضرت عبس کی حدیث۔ - 15464
قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ عَنْ عُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَبْسًا الْغِفَارِيَّ وَالنَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ عَبَسٌ يَا طَاعُونُ خُذْنِي ثَلَاثًا يَقُولُهَا فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ لَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا
علیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم کسی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی حضرت عبس بھی تھے لوگ اس علاقے سے طاعون کی وجہ سے نکل رہے تھے حضرت عبس کہنے لگے اے طاعون تو مجھے اپنی گرفت میں لے لے یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ کہا علیم نے ان سے کہا کہ آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت سے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ہوسکتا ہے کہ زندگی ملنے پر اسے توبہ کی توفیق مل جائے تو وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چھ چیزوں سے موت کی طرف سبقت کرو بیوقوفوں کی حکومت، پولیس والوں کی کثرت، انصاف کا بک جانا، قتل کو معمولی سمجھتا، قطع رحمی کرنا اور ایسی نئی نسل ظہور جو قرآن کریم کو موسیقی کی طرح گا کر پڑھنے لگے گو کہ اس میں سمجھ دوسروں سے بھی زیادہ کم ہو۔
Top