مسند امام احمد - حضرت زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود کی حدیثیں۔ - 15504
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ قَالَتْ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هُمَا فَقَالَ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَالَ نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَهُ
حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لو چناچہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چناچہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے گئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top