مسند امام احمد - حضرت قیس بن ابی غزرہ کی حدیثیں۔ - 15551
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اسْمِنَا إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ
حضرت قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ تجار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہوجاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کرلیا کرو۔
Top