مسند امام احمد - حضرت حذیفہ بن اسید کی حدیثیں۔ - 15557
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ مَا تَذْكُرُونَ قَالُوا نَذْكُرُ السَّاعَةَ فَقَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ الدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَقَطَ كَلِمَةٌ
حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تم مذا کر ات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حضرت عیسیٰ کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہوگی جو۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ یہاں ایک لفظ چھوٹ گیا ہے۔ کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کرلے گی۔
Top