مسند امام احمد - حضرت ابورزین لقیط بن عامر کی مرویات۔ - 15595
قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ قَالَ وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ لَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ
حضرت ابورزین سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا خواب پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے تاقتی کہ اس کی تعبیر نہ دی جائے اور جب تعبیر دے دی جائے تو وہ اسی کے موافق پورا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے اور غالباً یہ بھی فرمایا کہ خواب صرف اسی شخص کے سامنے بیان کیا جائے جو محبت کرنے والا ہو یا اس معاملے میں رائے دے سکتا ہو۔
Top