مسند امام احمد - حضرت عروہ بن مضرس کی حدیثیں۔ - 15621
قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّءٍ أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ جَبَلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ بِجَمْعٍ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ مِنْهُ وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ
حضرت عروہ بن مضرس سے مروی ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا ہے واللہ میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج قبول ہوگیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کی اور ہمارے ساتھ وقوف کرلیا یہاں تک کہ وہ واپس منیٰ کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کرچکا تھا تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس کی محنت وصولی ہوگئی۔
Top