مسند امام احمد - حضرت ولید بن عقبہ کی حدیث۔ - 15786
حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَإِنِّي مُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ وَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ
حضرت ولید بن عقبہ سے مروی ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ کو فتح کرلیا تو اہل مکہ کے اپنے بچوں کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے لگے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے دعا کرتے مجھے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا میں نے اس وقت خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی اس لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہ تھی کہ میری والدہ نے مجھے خلوق لگادی تھی۔
Top