مسند امام احمد - - حدیث نمبر 1526
حدیث نمبر: 1526
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَهِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ.
اہل قبلہ کا جنازہ پڑھنا
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کرلیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز ٥١ (٣١٨٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٨ (١٠٦٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٧٤)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٨)، سنن النسائی/الجنائز ٦٨ (١٩٦٣)، مسند احمد (٥/٨٧، ٩٢، ٩٤، ٩٦، ٩٧) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ امام اور کوئی مقتدیٰ اور پیشوا نہ پڑھے، لیکن دوسرے عام لوگ پڑھ لیں، واضح رہے کہ ایک قرض دار تھا اور اس کا انتقال ہوگیا، تو اس کی بھی نبی کریم نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی، لیکن لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
Top