مسند امام احمد - حضرت بشیر بن سحیم کی حدیثیں۔ - حدیث نمبر 3602
حدیث نمبر: 2458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِفَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالْوَرِقِ.
خالی زمین کو سونے چاندی کے عوض کریہ پر دینے کی اجازت
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہوگی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کردیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحرث ٧ (٢٣٢٧)، ١٢ (٢٣٣٢)، ١٩ (٢٣٤٦)، الشروط ٧، (٢٧٢٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٩ (١٥٤٧)، سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٢، ٣٣٩٣)، سنن النسائی/المزارعة ٢ (٣٩٣٠، ٣٩٣١، ٣٩٣٣)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الارض ١ (١)، مسند احمد (٤/١٤٢) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج ؓ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
Top