مسند امام احمد - حضرت لقیط بن صبرہ (رض) کی حدیث - حدیث نمبر 1404
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ مَنْصُورٌ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ فَغَارَتَا فَضَرَبَتْهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ قَالَ فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً قَالَ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیثیں
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مکہ مکرمہ میں بیمار ہوگئے، نبی ﷺ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت سعد ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے، میری واث صرف ایک بیٹی ہے، کیا میں اپنے دو تہائی مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کرسکتا ہوں؟ فرمایا نہیں، میں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتے ہو اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top