مسند امام احمد - ایک صحابی (رض) کی روایت - 15995
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ وَقَالَ لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ قَالَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَفُتِّحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ فِي مَنَازِلِهِمْ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبًا الزُّبَيْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ إِلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِ وَقُولَهُ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان منیٰ میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا : اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا : پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی، جس نے اہل منیٰ کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سنائی دیتی رہی، میں نے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھیکری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔
مروی ہے کہ ابوطلحہ واعظ نامی ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعبداللہ ! لوگ مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے روکتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ علی ابراہیم انک حمید مجید وعلی محمد وعلی اہل بیتہ وعلی ازواجہ، امام مالک نے فرمایا تم یہ حدیث بیان کرسکتے ہو اور اپنے وعظ میں اسے ذکر کرسکتے ہو۔
Top