مسند امام احمد - حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 11936
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنَهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشَمٍ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ قَائِلٌ بَلَى وَمَا هُوَ مِنْ قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ أَوْ قَالَ لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ
حضرت انس بن مالک ؓ کی مرویات
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان ؓ کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی ﷺ کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں، چناچہ ایک دن نبی ﷺ اپنے کچھ صحابہ ؓ کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام ؓ آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اسے ہرگز نہیں کھا سکے گی۔
Top