مسند امام احمد - حضرت ذی اللحیہ کلابی (رض) کی روایت - 16037
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ لَا بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ
حضرت ذی اللحیہ کلابی (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم ابتداء کوئی عمل کرتے ہیں یا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں، پہلے سے لکھا جاچکا ہوتا ہے، عرض کیا پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کے لئے وہی اعمال آسان ہوں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
Top