مسند امام احمد - بنوسلیط کے ایک آدمی کی روایت - 16049
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ مُحْتَبٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ لَهُ قِطْرٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ غَيْرَهُ وَهُوَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متلعق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے، اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔
Top