مسند امام احمد - نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکرم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والے صحابی کی روایت۔ - حدیث نمبر 10296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِ السُّلَمِيِّ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ
متعدد صحابہ کرام ؓ کی مرویات
بنو سلیم کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
Top