مسند امام احمد - حضرت سلمہ بن نفیل سکونی (رض) کی حدیثیں - 16352
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنْ السَّمَاءِ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَبِمَاذَا قَالَ بِمِسْخَنَةٍ قَالُوا فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا فُعِلَ بِهِ قَالَ رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا مَتَى وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَبَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ
حضرت سلمہ بن نفیل (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کے پاس بھی آسمان سے کھانا آیا ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا وہ کیا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا، پوچھا کیا اس میں سے کچھ باقی بھی بچا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ! پوچھا وہ کیا ہوا فرمایا اسے اٹھا لیا گیا اور مجھ پر وحی بھیجی گئی ہے کہ میں تم سے رخصت ہونے والا ہوں اور زیادہ دیر تک تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور میرے بعد تم بھی کچھ ہی عرصہ رہوگے، بلکہ تم اتنا عرصہ رہو گے کہ کہنے لگو گے موت کب آئے گی ؟ پھر تم پر ایسے مصائب آئیں گے کہ تم ایک دوسرے کو خود ہی فناء کردو گے اور قیامت سے پہلے کثرت اموات کا نہایت شدید سلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آئیں گے۔
Top