مسند امام احمد - حضرت یزید بن اخنس (رض) کی حدیث - 16354
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ وَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومَ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتُكَ النَّجْدَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ وَسَقَطَ بَاقِي الْحَدِيثِ
حضرت یزید بن اخنس (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آپس میں آگے بڑھنے کا مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں ہے سوائے دو آدمیوں میں، ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی دولت عطاء فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہو اور اس کے احکامات کی پیروی کرتا ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ نعمت عطاء فرمائی ہوتی تو میں بھی اسی طرح رات دن اس کی تلاوت کرتا اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہوا اور وہ اسے صدقہ خیرات کر کے خرچ کرتا ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر کہے کاش ! اللہ نے مجھے بھی اسی طرح مال عطاء فرمایا ہوتا جیسے فلاں شخص کو دیا ہے تو میں بھی اسی طرح صدقہ خیرات کرتا، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر کسی آدمی میں ذاتی شرافت ہو۔۔۔۔۔۔۔
امام احمد (رح) کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ حدیث کا بقیہ حصہ ساقط ہوگیا ہے، میں نے یہ حدیث اپنے والد کے مسودے میں پائی تھی جو ان کے ہاتھ ہی سے لکھی ہوئی تھی۔
Top