مسند امام احمد - حضرت ابومسعودبدری انصاری (رض) کی مرویات - 16448
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ الْبَدْرِيَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانَ هِجْرَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ أَوْ إِلَّا بِإِذْنِهِ
حضرت ابو مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں قرآن کا سب سے بڑا قاری اور سب سے قدیم القراءت ہو، اگر سب لوگ قراءت میں برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے زیادہ عمر رسیدہ آدمی امامت کرے، کسی شخص کے گھر یا حکومت میں کوئی دوسرا امامت نہ کروائے، اسی طرح کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کے باعزت مقام پر نہ بیٹھے الاّ یہ کہ وہ اجازت دے دے۔
Top