مسند امام احمد - حضرت سعد بن اطول (رض) کی حدیث - 16595
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاذْهَبْ فَاقْضِ عَنْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنْهُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا امْرَأَةً تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ
حضرت سعد بن اطول (رض) سے مروی ہے کہ میرا ایک بھائی فوت ہوگیا، اس نے تین سو دینار ترکے میں چھوڑے اور چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے ان پر کچھ خرچ کرنا چاہا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مقروض ہو کر فوت ہوا ہے لہذا جا کر پہلے ان کا قرض ادا کرو، چناچہ میں نے جا کر اس کا قرض ادا کیا اور حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ہے اور سوائے ایک عورت کے کوئی قرض خواہ نہیں بچا، وہ دو دیناروں کی مدعی ہے لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے سچا سمجھو اور اس کا قرض بھی ادا کرو۔
Top