مسند امام احمد - حضرت ابوالاحوص کی اپنے والد سے روایت - 16596
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ قَالَ مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِي اللَّهُ فَأَكْثَرَ وَأَطْيَبَ قَالَ فَتُنْتِجُهَا وَافِيَةً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ فَتَقُولُ صَرْمَاءَ ثُمَّ تَكَلَّمَ سُفْيَانُ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا وَتَقُولُ بَحِيرَةَ اللَّهِ فَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ وَمُوسَاهُ أَحَدُّ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ أَتَاكَ قُلْتُ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ قُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أُعْطِيهِ قَالَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوالاحوص کے والد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پراگندہ حال میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کس قسم کا مال ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے، اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے کبھی انہیں اپنے اور اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دے دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی طرف اور صلہ رحمی کی طرف، میں نے عرض کیا کہ اگر میرے پاس میرے چچا زاد بھائیوں میں سے کوئی آئے اور میں قسم کھالوں کہ اسے کچھ نہ دوں گا، پھر اسے دے دوں تو ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور جو کام بہتر ہو وہ کرا لو، یہ بتاؤ اگر تمہارے پاس دو غلام ہوں جن میں سے ایک تمہاری اطاعت کرتا ہو، تمہاری تکذیب اور تم سے خیانت نہ کرتا ہو اور دوسرا تم سے خیانت بھی کرتا ہو اور تمہاری تکذیب بھی کرتا ہو (تو تم کسے پسند کرو گے ؟ ) میں نے عرض کیا اس کو جو مجھ سے خیانت نہ کرے، میری تکذیب نہ کرے اور میری بات کی تصدیق کرے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھی تمہارے پروردگار کی نگاہوں میں یہی حال ہے۔
Top