مسند امام احمد - حضرت عمروبن عوف (رض) کی حدیث - 16601
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ فَوَافَتْ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ فَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ وَجَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ حَدَّثَنَا سَعْدٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عمرو بن عوف (رض) جو کہ غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو بحرین کی طرف بھیجا، تاکہ وہاں سے جزیہ وصول کر کے لائیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل بحرین سے صلح کرلی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی (رض) کو امیر بنادیا تھا، چناچہ ابو عبیدہ (رض) بحرین سے مال لے کر آئے، انصار کو جب ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نماز فجر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز فجر پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ سامنے آئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں دیکھ کر مسکرا پڑے اور فرمایا شاید تم نے ابوعبیدہ کی واپسی اور ان کے کچھ لے کر آنے کی خبر سنی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جس سے تم خوش ہوجاؤ گے، واللہ مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں، بلکہ مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی اور تم اس میں ان ہی کی طرح مقابلہ بازی کرنے لگو گے اور تم اسی طرح غفلت میں پڑجاؤ گے جیسے وہ غفلت میں پڑگئے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top