مسند امام احمد - حضرت ابومالک اشجعی (رض) عنہ کی حدیث - 16620
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنْ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا فَإِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت ابو مالک اشجعی (رض) سے مری ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عطیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے، تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلما لے لیتا ہے، ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے پہنایا جائے گا۔
Top