مسند امام احمد - حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات - 16655
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ
عبداللہ بن مالک (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ (رض) سمجھے کہ شاید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔
Top