مسند امام احمد - حضرت عیاض بن حمار مجاشعی (رض) کی حدیثیں - 16836
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلْيَحْفَظْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلَا يَكْتُمْ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا فَإِنَّهُ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِأَبِي إِنَّ قَوْمًا يَقُولُونَ عِقَاصَهَا وَيَقُولُونَ عِفَاصَهَا قَالَ عِفَاصَهَا بِالْفَاءِ
حضرت عیاض (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو آدمی کوئی گری پڑی ہوئی چیز پائے تو اسے چاہئے کہ اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور منہ بند کو اچھی طرح ذہن میں محفوظ کرلے، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے مت چھپائے کیونکہ وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔
Top