مسند امام احمد - ایک ثقفی صحابی (رض) کی روایت - 16875
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فَقُلْنَا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ سَاعَةً وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ فَأَبَى وَقَالَ هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَرَكَانِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ایک ثقفی صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے، ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے درخواست کی کہ ابو بکرہ کو ہمارے حوالے کردیں ؟ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے، دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ (رض) نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top