مسند امام احمد - حضرت رافع بن خدیج (رض) کے ایک چچا ظہیر (رض) کی روایت - 16884
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت زید بن خالد (رض) نے حضرت ابو جہیم (رض) کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گذرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔۔۔۔۔۔ تک کھڑا رہے یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دن فرمایا : مہینے یا سال فرمایا ؟
Top