مسند امام احمد - حضرت دکین بن سعید المزنی (رض) کی حدیثیں - 16921
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ رَاكِبًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ لِعُمَرَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ مَا أَرَى أَنْ يَقِيظَنِي قَالَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَأَخْرَجَ عُمَرُ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ لِتَأْخُذُوا فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا مَا أَحَبَّ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ تَمْرَةً حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت دکین بن سعید المزنی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں، چناچہ حضرت عمر (رض) کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چناچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Top