مسند امام احمد - حضرت عبداللہ بن جابر (رض) کی حدیث - 16938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى رَحْلِهِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَهَّرَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا
حضرت عبداللہ بن جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت قضاء حاجت کر کے آئے تھے، میں انے السلام علیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے، میں بھی پیچھے پیچھے تھا، حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خیمے میں داخل ہوگئے اور میں مسجد میں جا کر غمگین اور مغموم ہو کر بیٹھ گیا، کچھ ہی دیر بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کر کے تشریف لے آئے اور ایک مرتبہ علیک السلام ورحمۃ اللہ فرمایا : پھر فرمایا اے عبداللہ بن جابر ! کیا میں تمہیں قرآن کریم کی سب سے بہترین سورت کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الحمد للہ رب العالمین آخرتک پڑھا کرو۔
Top