مسند امام احمد - حضرت حنظلہ کاتب اسدی (رض) کی حدیثیں - 16951
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيْدِيِّ الْكَاتِبِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيَ عَيْنٍ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَوَلَدِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ وَذَكَرْتُ الَّذِي كُنَّا فِيهِ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ نَافَقْتُ نَافَقْتُ فَقَالَ إِنَّا لَنَفْعَلُهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ أَوْ فِي طُرُقِكُمْ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَ هَذَا هَكَذَا قَالَ هُوَ يَعْنِي سُفْيَانَ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً
حضرت حنظلہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے، وہاں ہم جنت اور جہنم کا تذکرہ کرنے لگے اور ایسا محسوس ہوا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، پھر جب میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کے پاس آیا تو ہنسنے اور دل لگی کرنے لگا، اچانک مجھے یاد آیا کہ ابھی ہم کیا تذکرہ کر رہے تھے ؟ چناچہ میں گھر سے نکل آیا، راستے میں حضرت صدیق اکبر (رض) سے ملاقات ہوئی، تو میں کہنے لگا کہ میں تو منافق ہوگیا ہوں، ( اور ساری بات بتائی) انہوں نے فرمایا کہ یہ تو ہم بھی کرتے ہیں، پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کیفیت ذکر کی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حنظلہ ! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہنے لگو جس کیفیت میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو تمہارے بستروں اور راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں، حنظلہ ! وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔
Top