مسند امام احمد - حضرت قیس جذامی (رض) کی حدیث - 17118
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُزَوَّجُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ
حضرت قیس جذامی (رض) سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا شہید کو اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی چھ انعامات دے دیئے جاتے ہیں، اس کا ہر گناہ معاف کردیا جاتا ہے، جنت میں اسے اپنا ٹھکانہ نظر آجاتا ہے، حور عین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے، فزع اکبر سے اسے محفوظ کردیا جاتا ہے، عذاب قبر سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔
Top