مسند امام احمد - حضرت علی (رض) کی مرویات - حدیث نمبر 754
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معتکف مسجد میں جگہ متعین کرے
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں پر رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ١ (٢٠٢٥)، ولیس عندہ: قال نافع، صحیح مسلم/الاعتکاف ١ (١٧٧١)، سنن ابی داود/الصوم ٧٨ (٢٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٣) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اعتکاف کے لیے ایسی مسجد شرط ہے جس میں باجماعت نماز ہوتی ہو، جمہور کا خیال ہے کہ جس پر جمعہ فرض نہیں وہ ہر اس مسجد میں اعتکاف کرسکتا ہے جس میں نماز باجماعت ہوتی ہو، لیکن جس پر جمعہ فرض ہے اس کے لیے ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا چاہیے جہاں نماز جمعہ بھی ہوتی ہو۔
Top