مسند امام احمد - حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ - 17132
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ قَالَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ شَكَّ أَبُو بَكْرٍ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي قَالُوا قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کی عیادت کے لئے گئے، ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے، مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے، طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے) ۔
Top