مسند امام احمد - حضرت بشیر بن سحیم کی حدیثیں۔ - حدیث نمبر 7247
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
کون سا آدمی افضل ہے
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد ٢ (٢٧٨٦)، والرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن ابی داود/ الجہاد ٥ (٢٤٨٥)، سنن النسائی/الجہاد ٧ (٣١٠٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، و مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: اس سے قطعاً یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیونکہ بعض احادیث میں «ويؤتی الزکاة» کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہوگا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی اور وہ دور شاید بہت قریب ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (2 / 173)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1660
Top