مسند امام احمد - حضرت کعب بن مرہ یا مرہ بن کعب (رض) کی حدیثیں - 17370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ قَدْ حَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ وَذَكَرَ ثَلَاثَةً بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُرَّةَ أَوْ عَنْ كَعْبٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَكُونَ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَإِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ وَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ ذِرَاعَيْهِ وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ قَالَ شُعْبَةُ وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْحَ الرَّأْسِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهِ عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوَيْنِ مِنْ أَعْضَائِهِمَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهَا مِنْ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهَا
حضرت کعب بن مرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ رات کے کس حصے میں کی جانے والی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رات کے آخری پہر میں۔
پھر فرمایا نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ تم فجر کی نماز پڑھ لو، پھر طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج ایک دو نیزے کے برابر آجائے، پھر نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ سورج کا سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے، اس کے بعد زوال تک کوئی نماز نہیں ہے، پھر نماز قبول ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، پھر غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
اور جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جب بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں، شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ راوی نے مسح سر کا ذکر نہیں کیا۔
جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کردیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے اور جو عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے تو وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور باندی کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے۔
Top