مسند امام احمد - حضرت عروہ بن مضرس طائی (رض) کی حدیثیں - 17587
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَوْ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوْقِفِ فَقُلْتُ جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ جَبَلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَأَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ
حضرت عروہ بن مضرس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا، بخدا ! میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج ہوگیا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کرلی اور ہمارے ساتھ وقوف کرلیا یہاں تک کہ واپس منٰی کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کرچکا تھا تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس کی محنت وصول ہوگئی۔
Top